Home / اہم خبریں / ’’وہ دیگ مَست کی تھی اور یہ دیگ خود اللہ نے چڑھائی ہے ‘‘
’’وہ دیگ مَست کی تھی اور یہ دیگ خود اللہ نے چڑھائی ہے ‘‘

’’وہ دیگ مَست کی تھی اور یہ دیگ خود اللہ نے چڑھائی ہے ‘‘

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ممتاز مفتی لکھتے ہیں کہ ایک شہر میں ایک مست بابا آ گیا- آتے ہی اْس نے لوگوں کو حکم دیا کہ ایک بہت بڑی دیگ لاؤ- دیگ آ گئی تو بولا، اس دیگ کے لائق ایک چولہا بناؤ، اس میں لکڑیاں رکھ کر آگ جلاؤ -چولہا جل گیا، مست بابا جی نے حکم دیا کہ دیگ میں پانی بھر دو، اوپر ڈھکنا لگا دواور اسے چولہے پر رکھ دو- اگلی صبح لوگوں نے دیگ کا ڈھکنا اْٹھایا تو دیکھا کہ وہ پلاؤ سے بھری ہوئی ہے- سارے شہر میں اعلان کر دیا گیا کہ حاجت مند آئیں، انھیں کھانا مفت تقسیم کیا جائے گا-اس اعلان پر سارا شہر دیگ پر اْمڈ آیا– مست بابا پلاؤ کی تھالیاں بھر بھر کر دینے لگا- اگلے روز انھوں نے دیگ کا ڈھکنا اْٹھایا تو دیکھا کہ دیگ جوں کی توں بھری ہوئی تھی- اس پر شہر میں مست بابا کی دھوم مچ گئی-برتاوے تھالیاں بھر بھر کر لوگوں کو بانٹتے مگر دیگ جوں کی توں بھری تھی- حاجت مندوں میں ایک فقیر بھی تھا- وہ خالی ہاتھ آتا اور سارا دن کھڑا تماشا دیکھتا رہتا- برتاوے کہتے–! میاں تو کیوں خالی ہاتھ کھڑا ہے، برتن لا اور چاول لے لے- وہ کہتا، میں حاجت مند نہیں ہوں-اس بات پر برتاوے بہت حیران ہوتے کہ کھڑا بھی رہتا ہے بٹر بٹر دیکھتا بھی رہتا ہے مگر کھاتا پیتا نہیں ہے- انھوں نے مست بابا سے بات کی- مست بابا نے کہا، اس شخص کو میرے پاس لاؤ- وہ فقیر کو مست بابا کے پاس لے گئے- مست بابا نے پوچھا، میاں کیا بات ہے کہ تو سارا دن دیگ کے سامنے کھڑا رہتا ہے لیکن دیگ کے چاول نہیں کھاتا-فقیر بولامیں یہاں چاول کھانے نہیں آتا اور نہ ہی اس دیگ کو دیکھنے آتا ہوں، جو ہمہ وقت بھری رہتی ہے- مست بابا نے پوچھا، پھر تو یہاں آتا کیوں ہے؟ فقیر بولا میں تو تیری زیارت کرنے آتا ہوں، تو جو اس شہر کا رب بنا ہوا ہے اور لوگوں میں رزق تقسیم کر رہا ہے-مست بابا کا چہرہ بھیانک ہو گیا- وہ چلا کر بولا: ’’ دیگ کو اْنڈیل دو- چولہے پر پانی ڈال دو-یہ کہہ کر مست بابا نے اپنی لاٹھی اْٹھائی اور شہر سے باہر نکل گیا-ممتاز مفتی کہتے ہیں کہ میرے کئی دوستوں نے کہا — مفتی یہ کہانی تو نے خود گھڑی ہے- یہ تو پاکستان کی کہانی ہے- لوگ اس دیگ کو کھا رہے ہیں- ایک جاتا ہے تو دوسرا گروہ آ جاتا ہے-سب کچھ کھا پی کر ، وہ جاتا ہے تو تیسرا گروہ آ جاتا ہے اور اس کے لوگ دیگ پر ٹوٹ پڑتے ہیں- لیکن یہ دیگ ختم ہونے میں نہیں آتی- فرق صرف یہ ہے کہ وہ دیگ مست نے چڑھائی تھی اور یہ خود ربِ جلیل نے چڑھائی ہے-

Sharing is caring!

Facebook Comments

About admin

Check Also

قرض چاہےایک روپیہ ہویاایک کروڑ بعدنمازعشاءصرف یہ کام کریں - Life Tips

قرض چاہےایک روپیہ ہویاایک کروڑ بعدنمازعشاءصرف یہ کام کریں – –

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر …