Home / اسلام / ماوں نے بیٹیاں بیچنا شروع کر دیں …. بیٹیوں کی دہائی بھی کسی کام نہ آئی – –
ماوں نے بیٹیاں بیچنا شروع کر دیں …. بیٹیوں کی دہائی بھی کسی کام نہ آئی – –, Urdu Gold News

ماوں نے بیٹیاں بیچنا شروع کر دیں …. بیٹیوں کی دہائی بھی کسی کام نہ آئی – –

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) شادی یوں تو دو افراد کا ملن ہے مگر بغور دیکھا جاے تو در حقیقت شادی دو گھرانوں کا سنگم ہے جو کہ دو گھرانوں کے رسوم و رواج سے لے کر پہننے اوڑھنے کا سلیقہ، پکوان، بناؤ سنگھار اور ان کے زندگی گزارنے کے طریقوں پر مشتمل ہے-
اور یہ وہ تمام طریقے ہیں جو ایک نئی نویلی دلہن کو اگلے گھر جا کر اپنانے کا درس دیتا ہے ہمارا معاشرہ- ان میں اگر کوئی کوتاہی برتی جائے تو نہ صرف اُس پر طعنے کسے جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو لڑکی کی پرورش پر بھی کٸ انگلیاں أٹھتی ہیں-قرآنٍ کریم کے احکامات کی روشی میں دیکھا جاۓ تو اللہ نے بیٹی کو رحمت بنایا ہے-اور نبی کریم ص بھی حضرت فاطمہ کا بے حد احترام کرتے تھے اور اپنا جگر گوشہ تسلیم کرتے تھے- والدین یہاں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر غور رتے ہیں وہیں لڑکی کی شادی بالخصوص اس کے جہیز کی بھی فکر انہیں کھائےجاتی ہے کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو مناسب اور قیمتی جہیز نہیں دیں گے تو ان کی بیٹی کا اس معاشرے میں رہنا مشکل ہو جائے گا-لوگ طرح طرح کی باتیں کرینگے! کوئی کچھ کہے گا تو کوئی کچھ! کہا جائے گا کہ ساری عمر بیٹی کو صرف تعلیم ہی دلوائی اور اسکے جہیز کا لیے کچھ نہ جوڑا ! مگر معاشرے کو کون یہ بات سمجھائے کہ 20,000 روپے ماہانہ آمدن والا کہاں سے جوڑے اور کہاں سے اپنی بیٹی کے لیے جہیز بنائے؟ انہی فرسودہ , دقیانوسی, اور فضول رسومات کی وجہ سے غریب لڑکیوں کے سروں میں چاندی آگئی ہے –
ہر کوئی آکر یہ تو ضرور کہتا ہے کہ بھئی آخر کب تک پرائی امانت اپنے سنگ رکھو گے ؟ مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ چلو ہم بھی اس کارخیر میں حصہ لیتے ہیں- اور اس غریب کی بیٹی کی شادی کا بیڑہ اُٹھاتے ہیں -پڑوس ملک سے آئے اس” جہیز کلچر “ نے نہ صرف ہمارے معاشرے کے غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے بلکہ نت نئے رسوم و رواج متعا رف کروا کر غریب کا سر جھکانے میں کوئی کسر نہی چھوڑی- گھر کے فرنیچر سے لے کر باورچی خانے کے سامان تک سب کچھ دینا ماں باپ کا ہی فرض سمجھا جاتا ہے- معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی بیاہی نہیں جا رہی بلکہ اچھے اور مہنگے سامان کے عوض اس کی خوشحال زندگی کی ضمانت دی جا رہی ہے – اود بیچارہ باپ تو یہ تک نہیں کہہ پاتا کہ بھئی اس سامان کی کیا ضرورت کیا یہی کافی نہیں کہ ایک باپ اپنا عمر بھر کا سرمایہ تمہیں سونپ رہا ہے- مانو ! بنت حوا اس معاشرے کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ہم سے یہ کہہ رہی ہے ” اے مائی مجھے نہ بیچ ُتو—– حکومت کو چاہیے کے ایسے قوانین بنائے اور ان پر عمل در آمد بھی کروائے کہ جن میں جہیز لینے والے کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے-

Facebook Comments

About admin

Check Also

دوسرے مرحلے میں کل سے چھٹی سے آٹھویں کلاس تک سکولوں کو کھولنے کی اجازت ہو گی یا نہیں ؟ این سی او سی نے اپنا فیصلہ سنا دیا – –, Urdu Gold News

دوسرے مرحلے میں کل سے چھٹی سے آٹھویں کلاس تک سکولوں کو کھولنے کی اجازت ہو گی یا نہیں ؟ این سی او سی نے اپنا فیصلہ سنا دیا – –

این سی او سی نے کل بدھ سے دوسرے مرحلے میں اسکولز کھولنے کی اجازت …