Breaking News
Home / اسلام / کاش میری بیٹی پیدا ہی نہ ہوتی . یہ اس کے باپ کی آواز تھی . جب اس نے یہ سنا تو – –
کاش میری بیٹی پیدا ہی نہ ہوتی . یہ اس کے باپ کی آواز تھی . جب اس نے یہ سنا تو - Newsbeads

کاش میری بیٹی پیدا ہی نہ ہوتی . یہ اس کے باپ کی آواز تھی . جب اس نے یہ سنا تو – –

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ساتھ والے کمرے سے اس کے باپ کی آواز آرہی تھی وہ اس کی شادی کی باتیں‌کر رہے تھے لیکن ان باتوں‌میں‌وہ خوشی کی کوئی جھلک نہیں‌تھی یہاں‌تو افسردگی سی چھائی ہوئی تھی . اسے لگ رہا تھا کہ یہ شادی کا گھر نہیں بلکہ شاید ماتم کا گھر ہے۔
اسے لگا اس کی ڈولی نہیں‌شاید اس کا جنازہ اٹھایا جا رہا ت=ہے باپ کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا بھائی کی آواز میں‌قرضوں کا بوجھ سمایا ہوا تھا . یہ شادی نہیں‌تھی بلکہ ایک گھرانے کی بربادی تھی. اس کی خوشیوں کا خون تھا اس کے ماں‌باپ کی جھکی ہوئی کمر کو توڑنے کی تیاری تھی۔ وہ ساتھ والے کمرے میں دیوار سے کان لگائے لرزتے جسم کے ساتھ سن رہی تھی۔ اس کے بھائی کی آواز تھی۔”بابا ۔ ہم بہت غریب ہیں-زیادہ نہیں دے سکیں گے۔ زیادہ سامان دیا تو۔ عمر بھر قرض اتارتے رہیں گے۔“آواز میں پریشانی اور الجھن کے ساتھ ساتھ اکتاہٹ بھی تھی”اللہ بیٹیاں دیتا ہی کیوں ہے۔؟ کاش پیسہ ہوتا ہم اپنی بیٹی کو سب کچھ دے کے رخصت کرتے۔“بابا کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی-اس نے تصور میں دیکھا ۔ ماں بیچاری تو سب سن کر بس رو رہی ہو گی-اسے خود پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ جی چاہ رہا تھا۔ جا کے زور زور سے کہہ دے-مجھے کچھ نہیں لینا۔ مجھے کچھ نہیں لینا۔ بس آپ لوگوں کی خوشی . مسکراہٹ-اور سکون ہی میرے لیے سب سے بڑا جہیز ہے۔“مم مگراسے خیال آیا میں مجبور ہوں ظالم سماج نے جہیز لازمی بنا رکھا۔ ضرورت مجھے نہیں میرے سسرال کو ہے۔
اگربات میری ہوتی بات بیٹی کی ہوتی تو کوئی بیٹی جہیز کو اپنے باپ کے لرزتے جسم پریشان چہر اپنی ماں کے بہتے آنسو سوچوں میں گم چہرے اور بھائی کے کندھوں پر بننے والے بوجھ پر ترجیح نہ دیتی بلکہ ہر بیٹی جہیز میں باپ کا کھللکھلاتا چہرہ ماں کے محبت بھرے بوسےاور بھائی کے پیار کی طلب کرتی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھےقرض مانگنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں سود کا حساب لگایا جا رہا تھا وہ دھڑام سے چارپائی پر جا گِری۔”یا اللہ میری وجہ سے کیا کیا ہونے جا رہا ہے۔؟یا اللہ میں کہاں جاؤں۔۔ کاش امیر لوگ یہ رسم کو نہ بڑھاتے-میں کتنی مجبور ہوں۔ کاش سسرال سے پیغام آجائے ہمیں بس بیٹی سے مطلب ہے-سامان تو ہمارے پاس سب ہے۔ ایک بیٹی کی کمی ہے-اب بھی آواز آ رہی تھی شادی پر غم کی آواز”جا بیٹھ۔ قرض لے کے آبیٹی کو تو گھر سے اٹھانا ہے۔“بابا کی بڑھاپے سے کپکپاتی آواز تھی۔ وہ زور زور سے رو رہی تھی” کک کیا بیٹی کافی نہیں؟ جہیز کیوں؟کاش کوئی سنے کوئی دیکھے میرے ماں باپ کا حال تو کبھی جہیز نہ لے۔۔ لاکھوں بیٹیاں۔ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی ہو گئیں۔۔۔ لاکھوں۔ اپنے ماں باپ کو عمر بھر کے لیے مقروض کر کے اٹھیں۔۔۔۔کہاں گئے وہ مسلمان۔۔۔۔؟؟؟ جو کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے۔
کہاں ہے وہ اسلام۔۔۔۔ جس میں جہیز کا سبق نہیں دیا گیا۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟“وہ چِلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔”ارے کوئی دیکھو۔۔۔ میرا گھر برباد ہو رہا۔۔۔ میرے ماں باپ کبھی ہنسیں گے نہیں۔۔۔ایک جہیز دے کر عمر بھر محنت کر کر کے مر جائیں گے۔۔۔۔اور جنازے پر جب اعلان ہو گا۔۔ کہ جس نے کچھ لینا دینا۔۔۔ ان کے بیٹے سے لے۔۔۔۔ تب بھی جہیز والا قرض باقی ہوگا۔۔۔کوئی تو بچاؤ۔۔۔۔ کوئی تو بچاؤ۔۔۔میں اپنے ماں باپ کے گھر کو ویران نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ کوئی تو سنو۔۔۔۔۔۔۔“۔۔۔۔۔…میں سن رہا تھا۔۔!!!!!دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایک مہکتے ہوئے باغ کے مالی اپنے ہی ہاتھوں سے باغ میں خزاں لانے جا رہے تھے۔۔۔ہنستے بستے گھر میں۔۔۔ اداسی اور ویرانی کی تدبیریں خود اہل خانہ کر رہے تھے۔۔۔ اپنی مسکراہٹوں اور سکون کو گھر سے خود نکالنے کی صلاح ہو رہی تھی۔۔اور معصوم دل بیٹی۔۔۔ خون کے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ وہ کچھ نہیں چاہ رہی تھی۔۔۔ بس اپنے ماں باپ ۔۔۔ کے چہروں پر مسکان کے سوا۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔ فوراً لڑکے والوں کے گھر پہنچا۔۔۔۔۔ ان کے سامنے اجڑتے ہوئے گھر کا منظر پیش کیا۔۔۔ وہ سمجھ گئے۔۔۔۔۔اور بولے۔۔۔۔”ہماری بھی بیٹی ہے۔۔۔ آج ہم جہیز نہیں لیں گے تو ہو سکتا ہے۔۔۔ کل ہمیں بھی نہ دینا پڑے۔۔۔ اور بیٹیوں کو بوجھ نہ سمجھا جائے۔۔۔۔آؤ ہمارے ساتھ اجنبی۔۔۔“مجھے ساتھ لے کر۔۔۔۔ وہ لڑکی والوں کے گھر پہنچے۔۔۔۔۔۔لڑکے کا باپ بولا۔۔۔۔”بھائی صاحب۔۔۔۔ ایک بات کا خیال رکھنا۔
ہمیں بیٹی دے رہے ہو۔۔۔۔ اس سے آگے کچھ نہیں بچتا۔۔۔۔ کسی بھی اور زحمت میں نہ پڑنا۔۔۔۔ہمارے ہاں ایک بہو کی کمی ہے۔۔۔۔باقی سب کچھ تو چل رہا ہے۔۔۔ اور چلتا رہے گا۔۔۔“وہ سن رہی تھی۔۔۔۔۔ سکتا طاری تھا۔۔۔۔ آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔اس کا باپ بولا۔۔۔”نہیں بھائی صاحب ہم نے اپنی بیٹی کو کچھ نہ کچھ دینا ہے۔۔۔۔۔“”نہیں بلکل نہیں۔۔۔۔ جو بھی ضرورت ہو۔۔۔ ہماری بیٹی ہمارے گھر آکے خود بنا لے گی۔۔۔۔۔ ہمیں یہ رسم ختم کر کے۔۔۔۔ بیٹی کو اہمیت دینی چاہیے۔۔۔۔“۔۔۔” واہ میر عظیم سسر۔۔۔“ وہ سوچ کر زرا شرمائی۔۔۔ ”ہاں ہاں بیٹی اہم ہے۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔“اس نے بازو لہرا کر خود کلامی کی”یا اللہ تیرا شکر ہے۔۔۔۔ تُو نے ہماری خوشیاں موڈ دیں۔۔۔ “سب گھر والے اس معجزے پر سجدہ ریز ہوئے۔۔۔ اس پیغام کو عام کرنے لگے۔۔۔ اور اس کو آگے بڑھاتے ہوئے۔۔۔۔جب اپنے بیٹے کا رشتہ طے کر کے اس کے سسرال گئے تو ۔۔۔۔ بولے۔۔۔”بھائی صاحب ہمیں بیٹی چاہیے۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔ بیٹی ہی اہم ہے ہمارے لیے۔۔۔۔“یہ رواج چل گیا۔۔۔۔جب بھی کوئی رشتہ کرتا تو کہتا۔۔۔”بس بیٹی چاہیے۔۔۔۔ بیٹی ہی اہم ہے۔۔۔۔“بیٹی ہی اہم ہے۔۔۔۔۔بیٹی ہی اہم ہے۔۔۔۔ہروہ گھر جگمگانے لگا۔۔۔۔ جس میں جہیز اندھیرا کرنے والا تھا۔۔۔۔نہ جہیز لیا جاتا نہ دینا پڑتا۔۔۔ حساب وہیں کا وہیں تھا۔۔۔۔ مگر اب بیٹی کی اہمیت تھی۔۔۔ اور خوشحالی بھی۔۔۔۔کیونکہ”بیٹی اہم ہے۔۔۔۔۔“کیا آپ کے لیے بھی؟؟؟؟ بھائیو۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ بہت سی بیٹیاں یا تو بیاہی نہیں جاتیں۔۔۔ یا ماں باپ کی خوشیاں چھین کر بیاہی جاتی ہیں۔۔۔۔۔ آپ کے اردگرد بھی ایسے گھر موجود ہیں۔۔۔ زرا تصور کیجیے۔۔۔کیا آپ اس کا حصہ بنو گے۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟میں تو جہیز نہیں لوں۔۔۔گا۔۔۔آپ؟؟؟

[Source: Urdu Gold News]
Facebook Comments

About admin

Check Also

کسان کی بیوی نے جو مکھن کسان کو تیار کر کے دیا تھاوہ اسے لے کرفروخت کرنے کیلئےاپنے گاؤں سے شہر کی طر ف روانہ ہو گیا

کسان کی بیوی نے جو مکھن کسان کو تیار کر کے دیا تھاوہ اسے لے کرفروخت کرنے کیلئےاپنے گاؤں سے شہر کی طر ف روانہ ہو گیا

نیشنل نیوز! کہتے ہے کہ جس کی نیت جیسی ہو اس کو ویسی ہی نیت …