Home / پاکستان / ارشد وارثی گھر کا بِل ادا کرنے کے لیے اپنا ’ گُردہ‘ بیچنے پر مجبور، مداحوں سے بڑی اپیل کر دی
ارشد وارثی گھر کا بِل ادا کرنے کے لیے اپنا ’ گُردہ‘ بیچنے پر مجبور، مداحوں سے بڑی اپیل کر دی, Urdu Gold News

ارشد وارثی گھر کا بِل ادا کرنے کے لیے اپنا ’ گُردہ‘ بیچنے پر مجبور، مداحوں سے بڑی اپیل کر دی

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) فلم منا بھائی ایم بی بی ایس میں سرلٹ کا کردار ادا کر کے شہرت کی بُلندیوں کو چھو جانے والے اداکار ارشد وارثی نے گھر کے بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے اپنا گردو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا-تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ارشد وارثی کا کہنا تھا کہ ’’ جون کا بل ادا کرنے کے لیے انہوں نے اپنے اکاؤنٹ سے ایک لاکھ 3 ہزار پانچ سو 64 روپے نکالے ہیں، پلیز میری پینٹنگ خرید لیں ، مجھے اپنے بجلی کے بل ادا کرنے ہیں، کہ وہ اپنے گردے آنے والے مہینے کے بجلی کے بل کے لیے رکھ رہے ہیں ‘‘-دوسری جانب کورونا وائرس جب سے آیا ہے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوئے ہیں، پوری دنیا کی معیشت ڈگمگا کر رہ گئی ہے، وہی بھارتی فلم انڈسٹری میں بطور فلمساز کام کرنے والے شخص اب دکان کھولنے پر مجبور ہوگیا ہے- تفصیلات کے مطابق 10 سالوں تک بھارتی فلم انڈسٹری میں بطور فلم ساز کام کرنے والے آنند نامی فلم ساز نے کرائے پر دکان لے کر وہاں پر اشیاء ضروری رکھ کر کاروبار شروع کر دیا ہے- آنند کا تعلق تامل ناڈو فلم انڈسٹری سے ہے- آنند کا کہنا ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ حالات کچھ دنوں بعد بہتر ہوجائیں گے اور ہم لوگ دوبارہ فلم انڈسٹری کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن لاک ڈاؤن نے مجھے گھر میں قید کر رکے رکھ دیا ، جب مجھے پتہ چلا کہ سب کچھ ہی بند ہے اور صرف کریانے کا کاروبار جاری ہے تو میں نے بھی ضروریات پوری کرنے کے لیے کریانے کی دکان کھول لی، لیکن میری کوشش یہ ہے کہ میں دکان میں موجود تمام اشیاء کی قیمتیں اس حد تک رکھوں کہ ہر فرد ان اشیاء کو باساآنی خرید سکے، مجھے نہیں لگتا کہ کورونا وائرس بہت جلد میری جان چھوڑ دے گا، میں سمجھتا ہوں کہ اس سال کے آخر تک بھی فلم انڈسٹری کو جو پابندیوں کا سامنا ہے وہ ختم ہوں، اور اگر پابندیاں ختم کر بھی دی جائیں تو لوگ اتنے ڈریں ہیں کہ وہ سنیما گھروں کا رخ ہی نہیں کریں گے، حالات پہلے سے بہت مختلف ہونگے، اب سنیما گھر اس ہی صورت میں کھلیں گے جب کاروباری مراکز اور دیگر کالز کو کھول دیا جائے تا کہ لوگوں کے اندر جو خوف ہے وہ ختم ہو تو لوگ سنیما گھروں کا رُخ کریں گے،- اس لیے مستقبل کو تاریک نہیں دیکھ سکتا اس لیے اپنی کریانہ کی دکان ہی چلاؤں کا جب تک حالات نارمل نہیں ہوجاتے-

[Article Source: Hassan Nisar]
Facebook Comments

About admin

Check Also

ایک ایسی داستان جو آپ سن کر حیران رہ جاینگے – –, Urdu Gold News

ایک ایسی داستان جو آپ سن کر حیران رہ جاینگے – –

-!شوہر کا بیوی پر غصہ اور رعب، آپ نے شوہر کا بیویوں کو مارنا اور …