مڈل کلاس کیا کرے؟ یہ نہ زکواۃ مانگتے ہیں، نہ فطرانہ‘ نہ بھیک

(مڈل کلاس)
“اِدھر کے نہ اُدھر کے، بیچ میں لٹکے ہوئے لوگ” پاکستان میں دو طرح کے لوگ بڑے اطمینان سے رہتے ہیں، “غریب اور امیر” یہ جو درمیان میں ”مڈل کلاس والے“ ہیں، صحیح بیڑا غرق ان کا ہوتا ہے، یہ رکھ رکھاؤ سے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائی ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا ہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں “امیر اور غریب” امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں ہے۔
پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتاہے، گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔درمیان میں جو طبقہ پستا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔ امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر سمجھتے ہیں، یہ مڈل کلاس والے کون ہوتے ہیں؟ یہ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ، گاڑی ، موبائل، موٹر سائیکل سب سیکنڈ ہینڈ۔ ان کے پاس نسبتاً بہترگھر ہوتا ہے لیکن کرائے کا، گھر میں اے سی ہوتا ہے لیکن بل بجلی کے ڈر سے چلتا عموماً ائیر کولر ہی ہے، کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔ گھر میں یو پی ایس ہوتا ہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔ یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتے ہیں۔ ان کے پرس میں اے ٹی ایم کارڈ امیروں کی طرح نظر آتے ہیں لیکن کبھی پانچ سو سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت نہ ہمت۔ اِن کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔ یہ اپنی اوقات سے صرف بیس فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستے رہتے ہیں۔ ان کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔ پاکستان کیا بلکہ دنیا میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعداد مڈل کلاس کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتا ہے۔ جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر بھی نیند پوری کرلیتاہے۔ پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتا اور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے۔رگڑا اُس کو لگتا ہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔ غریبوں کی اکثریت کو یہ مڈل کلاس ہی پال رہی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ سب سے زیادہ خوف خدا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتا ہے۔ یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو کچھ بتاتے بھی نہیں۔ امیر اور غریب کی کلاس ایک ہی ہوتی ہے۔
مگر مڈل کلاس میں لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔ لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا، لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار، نیندیں دونوں کی اُڑی رہتی ہیں۔ یہ عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔ ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔ یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتا ہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آ رہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ آؤں گا۔ یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔ ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے اور اس کیلئے ہمیشہ کمیٹی نکلنے یا قرضہ منظور ہونے کا انتظار رہتا ہے😢، اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہو جاتے ہیں😢۔ ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگرمختلف گھروں میں کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مڈل کلاس والے پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے میں ابھی دو ہفتے باقی ہیں۔
زکواۃ غریبوں کو جاتی ہے۔ بھیک کے پیسے بھی کوئی غریب ہی لیتا ہے۔ فطرانہ بھی غریب کا نصیب بنتا ہے۔لیکن غریب یہ سب لے کر بھی کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس نے طے کر لیا ہے کہ چونکہ وہ غریب ہے لہذا اس پر کسی قسم کی کوئی محنت فرض نہیں اور باقی سب کو چاہیے کہ وہ اسے مِل جُل کر پالیں۔ بھکاری وہ واحد طبقہ ہے جو کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا۔ آپ کسی بھکاری کو ذرا کسی کام پر لگانے کی آفر کریں تو آگے سے جو سننے کو ملے گا وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن مڈل کلاس کیا کرے؟ یہ نہ زکواۃ مانگتے ہیں، نہ فطرانہ‘ نہ بھیک، یہ صرف کُڑھتا ہے، سسکتا ہے۔