مُلکی معیشت کے لیے بُری خبر۔۔!! ڈالر مہنگا، اسٹاک مارکیٹ کے کیا حالات ہیں؟ جانیئے-

کراچی (نیوز ڈیسک )پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جس کے باعث معیشتوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور اس وائرس کے اثرات پاکستان پر بھی دکھائی دیئے تاہم اب لاک ڈاﺅن کھل چکا ہے اور حالات بہتری کی جانب سے گامزن ہیں ۔تفصیلات کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبارکا آغاز ہوتے ہی ڈالر کی قیمت میں 33 پیسے اضافہ ہو گیا جس کے بعد ڈالر 160 روپے 70 پیسے پر فروخت ہو رہاہے ۔دوسری جانب سٹا ک مارکیٹ سے کاروباری افراد کیلئے اچھی خبر آنے کا سلسلہ شروع ہو گیاہے کیونکہ سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان جاری ہے ۔ کاروبار کا آغاز ہوا تو 100 انڈیکس 33 ہزار 804 پوائنٹس پر تھا تاہم کچھ ہی دیر میں اس میں بہتری آنا شروع ہو گئی اور اس وقت انڈیکس 518 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 34 ہزار 323 پوائنٹس پر آ گیاہے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں لاک ڈا?ن کھلنے کے بعد سے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہاہے اور اب مزید 1841 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 36 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 12 ہزار957 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں مزید 1841 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی تعداد 43 ہزار 966 ہو گئی ہے جبکہ 36 افراد انتقال کر گئے ہیں اور اموات 939 ہو گئی ہیں تاہم 12 ہزار 489 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔کورونا وائرس کے سب سے زیادی کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں جہاں تعدا د 17 ہزار 241 ہو گئی ہے جن میں سے 4489 صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ 280 افراد انتقال کر گئے ہیں۔سندھ کے بعد صوبہ پنجاب میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ 15 ہزار 976 کیسز ہیں جن میں سے 273 جان کی بازی ہار گئے ہیں تاہم 4974 صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ دوسری جانب اکستان میں معاشی ترقی کی شرح 68 سال بعد منفی ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے سیکریٹری منصوبہ بندی ظفر حسن کی زیر صدارت نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں بریفگ کے دوران بتایا گیا ہے کہ کورونا، لاک ڈاؤن اور ٹڈی دل نے معیشت کو بدترین نقصان پہنچایا معاشی ترقی کی شرح منفی 0.38 فیصد رہی جبکہ اس کا ہدف 4 فیصد تھا۔مزید بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل 1952 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح منفی میں گئی تھی، شرح نمو سال 1952 میں منفی 1.81 فیصد تھی۔ حالیہ صورتحال کے جائزہ لینے کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں شرح نمو 2.67 فیصد رہی جبکہ اس کا ہدف 2.9 فیصد تھا، کپاس کی پیداوار میں 6.92 اور گنے کی پیداوار میں 0.44 فیصد منفی ترقی ہوئی، تاہم پیاز ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی پیداوار میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ لائیو اسٹاک میں شرح نمو 2.5 فیصد رہی، جنگلات میں شرح نمو 2.29 فیصد رہی،صنعتی ترقی کی شرح منفی 2.64 رہی جبکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 7.7 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں منفی 2.7 فیصد کمی رہی ہے جبکہ فوڈ مشروبات اور تمباکو سیکٹر میں منفی 2.3 فیصد کمی آئی ہے۔ کوک اور پیٹرولیم مصنوعات میں بھی منفی 17.4 ، فارماسیوٹیکل منفی 5.3 ،کیمیکل منفی 2.3 فیصد کمی ہوئی، الیکٹرونکس منفی 13.5 فیصد، انجینئرنگ منفی 7 فیصد کمی ہوئی،تعمیراتی سرگرمیوں میں 8.6 فیصد اضافہ ہوا۔ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور کمیونی کیشن سیکٹر کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں 7.13 فیصد نیگیٹو گروتھ رہی، فنانس اور انشورنس سیکٹر کی گروتھ میں 0.79 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 2019-20 میں فی کس آمدنی 2 لاکھ 14ہزار 539 روپے رہی ،فی کس آمدنی میں گزشتہ سال کی نسبت 8.3 فیصد اضافہ ہوا،اس سال جی ڈی پی 41 ہزار 772 ارب روپے رہی۔ خیال رہے کہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا، لاک ڈان اور ٹڈی دل نے معیشت کو بدترین نقصان پہنچایا معاشی ترقی کی شرح منفی 0.38 فیصد رہی جبکہ اس کا ہدف 4 فیصد تھا۔
Article Source: Hassan Nisar