جمہوریت اور آمریت کو اس طرح ڈسکس کیا جاتا ہے!!

جمہوریت اور آمریت کو اس طرح ڈسکس کیا جاتا ہے جیسے ہمارے پاس آپشن دو ہی ہیں، ایک یہ کہ آپ فوجی آمر کے بوٹ تلے دب کر سانس لیں یا جمہوریت میں وڈیروں، زمینداروں، سرمایاداروں کے جبر تلے سسکیاں لیں. ہم ان دونوں آپشنز کو رد کرتے ہیں اور اپنے نظریے، اپنے دین.. اسلام سے ایک مکمل متبادل پیش کرتے ہیں جس کو خلافت کہا جاتا ہے. اللہ نے ہم سے خلافت کا وعدہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ کی بعیت کا حکم دیا، صحابہ نے خلافت راشدہ کا ماڈل اپنایا، تمام فقہاء نے اسی کو فرض کہا، اسی کی تفصیل لکھی، اسی کی حمایت کی. یہی ہمارا آپشن ہے، یہی ہمارا اجتماعی نظام ہے، یہی ہماری سیاسی سوچ ہے.

جمہوریت پر وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں انسان کو بنانے والا کوئی نہیں۔ اس لیے قانون سازی ہم کرے گئے۔
قانون اللہ کا.
حکمران لُوٹتے ہیں، بھاگتے ہیں، لَوٹتے ہیں پھر لُوٹتے ہیں
یہی ان کا لہو گرم رکھنے کا انداز ہے۔ قانون حملہ آور، مسیحا ہڑتالوں پر، قاضی منتظر
اور کوتوال مجبور ۔ قوم اب بار بار لٹنے کا مزہ لے رہی ہے یعنی اسے بار بار لٹنے
کی عادت پڑچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عادتیں چھڑانا بڑا سنگین مسئلہ ہے ۔۔۔۔ لیکن جس دن
خود بخود لٹنے کی عادت چھوٹ گئی امت اپنی اصلیت کی طرف لوٹ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔!