جب دنیا تعلیمی ادارے بنانے میں مصروف تھی تو مغل بادشاہ تاج محل بنارہے تھے!

اکثر کہا جاتا ہے کہ جب دنیا تعلیمی ادارے بنانے میں مصروف تھی تو مغل بادشاہ تاج محل بنارہے تھے، عیاشی کر رہے تھے، عمومی طور پر یہ باتیں ان کی طرف سے ہوتی ہیں جن کو اپنی تاریخ سے اتنی نفرت ہے کہ اس کی صحیح چیز کو بھی غلط ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں،

تاج محل آج کے حساب سے 50 بلین کی خطیر رقم سے بنی، ظاہر ہے یہ رقم وہی ریاست ادا کرسکتی ہے جو مالی لحاظ سے مستحکم ہو، اس وقت مغل آج کے پاکستانی حکمرانوں کی طرح کسی مغربی ملک سے قرض نہیں لیتے تھے بلکہ دنیا کی پیداوار کا اچھا حصۃ، بلکہ دنیا کی GDP کا 25٪ ہندوستان کا ہوتا تھا، اس عروج کے دور میں ایسے شاہکار کا بنانا ان کو زیب دیتا تھا۔ (یاد رہے کہ برطانوی راج میں دنیا بھر میں کالونیز بنانے کے بعد بھی ان کیGDP 21٪ تھی یعنی مغل سے کم)

اس کو بنانے میں ہزاروں مزدوروں کو نوکریاں دی گئی، اس کو اکانومی کو چلانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، کہا جاتا ہے 18-20 ہزار مزدروں کو کام دیا گیا۔ جب امریکہ میں گریٹ ڈیپریشن آیا تو امریکی صدر ہوور نے بڑے منصوبے شروع کیے تاکہ نچلے سطح کے لوگوں کو کام ملے، ان کی آمدن ہو، ظاہر ہے ان کی آمدن ہوگی تو وہ خرچ کریں گے اور اس طرح معیشت کا پہیہ چلے گا، یہ طریقہ بہت کامیاب ہوا جس کی وجہ سےاگلے صدر روزیولٹ نے بھی اسی طرح کے منصوبے شروع کیے۔ ایسے ہی مثالیں سویت دور کی بھی ملتی ہیں۔

تاج محل کو مغل شاہکار کہا جاتا ہے، کسی بھی ریاست کی فکری برتری میں اس کے آرٹ کا ہے اہم حصہ ہوتا ہے، اور تاج محل یہ ثابت کرتا ہے کہ کہیں اور کوئی خامی رہی ہو تو رہی ہو مگر آرٹ میں مغل ریاست دنیا سے بہت آگے تھی، یہی وجہ ہے کہ 1643 سے پہلے یا بعد میں دنیا کے کسی خطے میں ماربل سے کوئی ایسا خوبصورت کام نہیں لیا گیا۔

باقی عمارتوں کے لیے آرکیٹیکچر اور انجینئرز چاہیے ہوتے ہیں جو کہ یہی کے تعلیمی اداروں سے پیدا ہوئے تھے، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں نہ صرف تعلیم تھی بلکہ تعلیمی نظام سے ایسے لوگ نکل رہے تھے جو اپنی فیلڈ کے ماہرین تھے۔

اپنی تاریخ کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں مگر اپنے قابلیت کو اپنی غلطی مت قرار دیں، بےشک مغلوں سے غلطیاں ہوئی تبھی وہ عروج سے زوال کی طرف آئے مگر تاج محل ان کی غلطی نہیں ان کی شان و شوکت کی مثال ہے، اس کو اپنا تاریخی اثاثہ سمجھے اور اس پر فخر کریں اور سر اٹھا کر کہیں کہ ہاں جب دنیا ماربل کے استعمال کو سمجھ رہی تھی تو ہم نے اس سے ایسا شاہکار بنایا کہ اس کا مقابلہ کوئی آج تک نہ کرسکا.