شاندار خبر:ڈیم مکمل طور پر بھر گئے۔۔۔!!! پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پن بجلی کی پیداوار 9 ہزار میگاواٹ کی سطح تک پہنچنے کا امکان

لاہور (ویب ڈیسک) ملک کے تین بڑے آبی ذخائر تربیلا ، منگلا اور چشمہ میں گزشتہ برسوں کے مقابلہ میں اِس سال پانی کی وافر مقدار موجود ہے ، جس کی بدولت ہمارے زرعی شعبہ میں پانی کی ضروریات بخوبی پوری ہو سکیں گی اور آنے والے دِنوں میں زیادہ پن بجلی بھی پیدا کی جاسکے گی۔اعدادو شمار کے مطابق تربیلا ، منگلا اور چشمہ میں آج مجموعی طور پر 70 لاکھ 18 ہزار ایکڑ فٹ پانی موجود ہے ، جو گزشتہ سال آج ہی کے دِن کے مقابلہ میں 41 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ ، جبکہ گزشتہ 10 سال کی اوسط دستیابی کے مقابلہ میں 54 لاکھ 96 ہزار ایکڑ فٹ زیادہ ہے ۔آج تربیلامیں 24 لاکھ 19 ہزار ایکڑفٹ ، منگلا میں 44 لاکھ 23 ہزار ایکڑ فٹ اور چشمہ میں ایک لاکھ 76 ہزار ایکڑفٹ پانی موجود ہے ۔پانی کی اِس مجموعی مقدار کی وجہ سے صوبوں کو آبپاشی کے لئے نسبتاًزیادہ پانی دستیاب ہوگا ۔آبی ذخائر میں پانی کی وافر دستیابی کے باعث آنے والے دِنوں میں صوبوں کی ضروریات کے مطابق اِرسا کی جانب سے جیسے جیسے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں اضافہ ہوگا ، پن بجلی کی پیداوار بھی بڑھتی چلی جائے گی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کرونا وائرس کی حالیہ وبا کے باوجود واپڈا تمام حفاظتی اقدامات کو بروئے کار لاتے ہوئے نہایت ضروری انجینئرز اور سٹاف کے ساتھ اپنے تمام پن بجلی گھروں کو مئوثر طور پر فعال رکھے ہوئے ہے اور اِن پن بجلی گھروںسے اِرسا کے انڈنٹ کے مطابق بجلی پیداکی جارہی ہے ۔ گزشتہ روز پن بجلی کی پیک پیداوار 6 ہزار510 میگاواٹ رہی جو گزشتہ سال آج ہی کے دِن کے مقابلہ میں تین ہزار میگاواٹ زیادہ ہے ۔پن بجلی کی اس اضافی پیداوار کے باعث قومی خزانہ کو صرف ایک دن میں 64کروڑر؂ وپے کی بچت ہوئی۔ توقع ہے کہ اِس سال موسم گرما میں ہائی فلو سیزن کے دوران واپڈا پن بجلی کی پیداوار ساڑھے 8 ہزار سے 9 ہزار میگاواٹ تک کی ریکارڈ سطح پر پہنچ سکتی ہے ۔